الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ النَّهْي عَنِ الْأَقْدَامِ عَلَى أَرْضِ بِهَا الطَّاعُونُ وَ عَنِ الْخُرُوجِ مِنْ أَرْضِ فِرَارًا مِنْهُ باب: طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے¤وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7803
عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضًا عِنْدَنَا يُقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ هِيَ أَرْضُ رِفْقَتِنَا وَمِيرَتِنَا وَإِنَّهَا وَبِئَةٌ أَوْ قَالَ إِنَّ بِهَا وَبَاءً شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فروہ بن مسیک مرادی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہماری ایک زمین ہے،اس کو ابین کہتے ہیں، یہ زرخیز علاقہ ہے اور ہمارا غلہ وغیرہ بھی اسی سے حاصل ہوتا ہے، لیکن وہ وباء والی ہے اور وہاں سخت وبا پڑتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کیونکہ وبا کے قریب ہونا ہلاکت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال اگر کسی علاقے میں سکونت اختیار کرنا فضیلت والا عمل نہ ہو، جبکہ اس میں ایسی وبائیں پائی جاتی ہوں، جو واقعی بندے کے جسم پر اثر کرتی ہوں تو اس علاقے کو چھوڑ دینا چاہیے، ایسے علاقے میں رہنے کی وجہ سے آدمی توہم پرستی میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے اور ایسی بیماریوں کو اپنی زمین اور علاقے کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے، نہ کہ اللہ تعالی کی طرف۔