الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ النَّهْي عَنِ الْأَقْدَامِ عَلَى أَرْضِ بِهَا الطَّاعُونُ وَ عَنِ الْخُرُوجِ مِنْ أَرْضِ فِرَارًا مِنْهُ باب: طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے¤وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7802
عَنْ عِكْرِمَةَ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَقْرَبُوهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عکرمہ بن خالد مخزومی اپنے باپ سے یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی زمین میں جب طاعون واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے باہر نہ جاؤ اور جب طاعون ایسے علاقے میں پڑ جائے، جس میں تم پہلے سے موجود نہ ہو تو اس علاقے میں نہ گھسو۔