الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِيقَةِ الطَّاعُوْنِ وَمَعْنَاهُ وَ شَهَادَةِ مَنْ مَاتَ بِهِ وَلَمْ يَفِرُّ مِنْهُ باب: طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 7799
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِي الطَّاعُونِ فِي آخِرِ خُطْبَةٍ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا رِجْسٌ مِثْلُ السَّيْلِ مَنْ يَنْكُبْهُ أَخْطَأَهُ وَمِثْلُ النَّارِ مَنْ يَنْكُبْهَا أَخْطَأَتْهُ وَمَنْ أَقَامَ أَحْرَقَتْهُ وَآذَتْهُ فَقَالَ شُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ هَذَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے طاعون کے بارے میں خطبہ کے آخر میں کچھ بیان کیا اور کہا: یہ سیلاب کی مانند ایک عذاب ہے، جو اس کی زد میں بچ جائے گا، یہ اس سے درگزر کرے گا اور یہ آگ کی مانند ہے، جو اس سے دور رہے گا، یہ اس سے تجاوز کرجائے گا اور جو اس میں ٹھہرا رہے گا، یہ اسے خاکستر بنادے گا، اذیت میں مبتلا کردے گا، سیدنا شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تمہارے نبی کی دعا اور رحمت ہے اور اس کے ذریعہ نیکوکار لوگ فوت ہوتے رہے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں اس چیز کا بیان ہے کہ طاعون ایک موذی اور مہلک بیماری ہے، لیکن اللہ تعالی نے اس بیماری کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لیے باعث ِ رحمت و شہادت قرار دیا ہے، اگلے دو ابواب میں اس بیماری کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔