الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِيقَةِ الطَّاعُوْنِ وَمَعْنَاهُ وَ شَهَادَةِ مَنْ مَاتَ بِهِ وَلَمْ يَفِرُّ مِنْهُ باب: طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ خَطَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَفِي هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ فَبَلَغَ ذَلِكَ شُرَحْبِيلَ بْنَ حَسَنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَغَضِبَ فَجَاءَ وَهُوَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُعَلِّقٌ نَعْلَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ وَلَكِنَّهُ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَوَفَاةُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ۔ عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں: جب شام کے علاقے میں طاعون آیا تو سیدنا عمروبن عاص رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: یہ طاعون ایک عذاب ہے، اس سے بھاگتے ہوئے گھاٹیوں میں بکھر جاؤ اور وادیوں میں چلے جاؤ، جب یہ بات سیدنا شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو وہ غضبناک ہوئے اور جوتا ہاتھ میں اٹھائے چادر کھینچتے ہوئے آئے اور کہا: میں نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحابیت کا شرف حاصل کیا ہے، جب عمرو اپنے گھر والوں کے گدھے سے زیادہ گمراہ تھے، یہ طاعون تو تمہارے رب کی رحمت اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے صالح لوگوں کی وفات کا باعث بنتی رہی ہے۔