الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِيقَةِ الطَّاعُوْنِ وَمَعْنَاهُ وَ شَهَادَةِ مَنْ مَاتَ بِهِ وَلَمْ يَفِرُّ مِنْهُ باب: طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 7795
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا فِي بِضْعَ عَشَرَةَ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِذَا هُوَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فَنَاءَ أُمَّتِي فِي الطَّاعُونِ فَذَكَرَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اسامہ بن شریک کہتے ہیں: ہم بنو ثعلبہ میں سے چودہ پندرہ آدمی نکلے اور اچانک ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو جا ملے، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری قوم کی فنا طاعون کے ذریعہ کر۔ پھر اوپر والی حدیث کی مانند بیان کیا۔