الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِيقَةِ الطَّاعُوْنِ وَمَعْنَاهُ وَ شَهَادَةِ مَنْ مَاتَ بِهِ وَلَمْ يَفِرُّ مِنْهُ باب: طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي قَالَ شُعْبَةُ قَدْ كُنْتُ أَحْفَظُ اسْمَهُ قَالَ كُنَّا عَلَى بَابِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَنْتَظِرُ الْإِذْنَ عَلَيْهِ فَسَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ قَالَ طَعْنُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَفِي كُلٍّ شَهَادَةٌ قَالَ زِيَادٌ فَلَمْ أَرْضَ بِقَوْلِهِ فَسَأَلْتُ سَيِّدَ الْحَيِّ وَكَانَ مَعَهُمْ فَقَالَ صَدَقَ حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُوسَى۔ امام شعبہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر ان سے اجازت ملنے کے انتظار میں کھڑے تھے، میں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی فنا طعنہ زنی اور طاعون سے ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہمیں طعنہ زنی کی معرفت تو ہے، یہ طاعون کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنوں کی طعنہ زنی ہے، اور ہر ایک میں شہادت ہے۔ زیاد کہتے ہیں: ان کی بات میرے دل نہ لگی، پس میں نے قبیلہ کے سردار سے پوچھا، جو اس وقت ان کے ساتھ تھا، تو اس نے تصدیق کی اور کہا یہ حدیث واقعی سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے۔