الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِيقَةِ الطَّاعُوْنِ وَمَعْنَاهُ وَ شَهَادَةِ مَنْ مَاتَ بِهِ وَلَمْ يَفِرُّ مِنْهُ باب: طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 7793
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ قَالَ وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَفِي كُلٍّ شُهَدَاءُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی فنا طعنہ زنی اور طاعون میں ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! طعنہ زنی کو تو ہم جانتے ہیں، طاعون کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنوں کا طعنہ ہے۔ اور (طاعون ہو یا طعنہ زنی) ہر ایک میں شہداء ہیں۔