الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِيقَةِ الطَّاعُوْنِ وَمَعْنَاهُ وَ شَهَادَةِ مَنْ مَاتَ بِهِ وَلَمْ يَفِرُّ مِنْهُ باب: طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ سَعْدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الطَّاعُونِ فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا أُحَدِّثُكَ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذَا عَذَابٌ أَوْ كَذَا أَرْسَلَهُ اللَّهُ عَلَى نَاسٍ قَبْلَكُمْ أَوْ طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَهُوَ يَجِيءُ أَحْيَانًا وَيَذْهَبُ أَحْيَانًا فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ۔ عامر بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے طاعون کے متعلق دریافت کیا، سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، انھوں نے کہا: اس کے متعلق میں تجھے بیان کرتا ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طاعون کو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں یا بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے، جب طاعون کسی علاقے میں واقع ہو تو اس میں داخل نہ ہوا کرواور وہاں سے راہِ فرار بھی اختیار نہ کیا کرو۔