الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَقِيقَةِ الطَّاعُوْنِ وَمَعْنَاهُ وَ شَهَادَةِ مَنْ مَاتَ بِهِ وَلَمْ يَفِرُّ مِنْهُ باب: طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ فِيهِ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَمْ يُصِبْهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طاعون کے بارے میں سوال کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ طاعون اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے، وہ جس پر چاہتا ہے مسلط کر دیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ایمانداروں کے لئے رحمت بنا دیا ہے، کوئی مؤمن بندہ ، جو طاعون میں مبتلا ہو جائے اور وہ اپنے علاقہ میں صبر اورثواب کی نیت کے ساتھ ٹھہرا رہے اور اسے یقین ہو کہ اس کو وہی تکلیف پہنچے گی جو اللہ تعالیٰ نے مقدر کی ہے، تو اس کے لیے شہید کا اجر لکھ دیا جاتا ہے۔