حدیث نمبر: 7789
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالشَّامِ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ هَذَا الرِّجْزَ قَدْ وَقَعَ فَفِرُّوا مِنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمْ يُصَدِّقْهُ بِالَّذِي قَالَ فَقَالَ بَلْ هُوَ شَهَادَةٌ وَرَحْمَةٌ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُعَاذًا وَأَهْلَهُ نَصِيبَهُمْ مِنْ رَحْمَتِكَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ فَعَرَفْتُ الشَّهَادَةَ وَعَرَفْتُ الرَّحْمَةَ وَلَمْ أَدْرِ مَا دَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ حَتَّى أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي إِذْ قَالَ فِي دُعَائِهِ فَحُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونٌ فَحُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ مِنْ أَهْلِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ تَدْعُو بِدُعَاءٍ قَالَ وَسَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَسْتَبِيحَهُمْ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَأَبَى عَلَيَّ أَوْ قَالَ فَمَنَعَنِيهَا فَقُلْتُ حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ایوب، ابو قلابہ سے بیان کرتے ہیں کہ شام کے علاقہ میں طاعون پڑ گیا، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ عذاب ہے جو بپا ہوا ہے، اس سے بھاگ جاؤ، گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ، لیکن جب یہ بات سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی، انہوں نے کہا: یہ عذاب نہیں ہے، بلکہ یہ تو شہادت اور رحمت ہے اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا ہے، اے اللہ! معاذ اس کے گھر والوں کو اپنی رحمت کا حصہ عطا کر۔ابوقلابہ کہتے ہیں: میں نے شہادت اور رحمت کو تو سمجھ لیا تھا، لیکن سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ یہ تمہارے نبی کی دعا ہے، مجھے اس کا پتہ نہ چل سکا، بعد میں مجھے بتایا گیا کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعا میں یہ الفاظ دوہرائے: تب بخار یا طاعون، تو پھر بخار یا طاعون۔ تین بار یہ الفاظ دوہرائے،جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں میں سے ایک نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! میں نے رات آپ سے ایک دعا سنی ہے، جو آپ کررہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے وہ سن لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرنا، اس نے یہ مطالبہ قبول فرمالیا، میں نے دوسرا مطالبہ کیا تھا کہ ان پر ان کے غیر سے دشمن مسلط نہ کرنا، جو ان کو جڑ سے مار ڈالے، اس نے یہ مطالبہ بھی قبول کر لیااور میں نے ایک یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ میری امت کو فرقوں میں تقسیم نہ کرنا کہ یہ ایک دوسرے کو عذاب چکھانا شروع کر دیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول نہ کی،پھر میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر (یہ دعا قبول نہیں کرنی) تو بخار یا طاعون میں انہیں مبتلا کردینا، بخار یا طاعون، بخار یا طاعون۔ تین بار فرمایا۔

وضاحت:
فوائد: … طاعون ایک وبائی بیماری ہے جس میں جلد میں پھوڑے کی طرح خطرناک ورم ہو جاتا ہے، اس سے انسان مر جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7789
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين الا انه مرسل، فان ابا قلابة لم يدرك زمن الطاعون، لكن ما ساقه في قصة الطاعون صحيح، وقد روي من غير وجه، والشطر الثاني منه مرسل ايضا، وقد صح منه دعاء النبي ان لا يھلك امته الخ، دون قوله: حمي اذا أو طاعونا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22487»