حدیث نمبر: 7787
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ وَلَكِنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا فَإِنْ كَانَ حَسَنًا رُئِيَ الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ وَإِنْ كَانَ قَبِيحًا رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَكَانَ إِذَا بَعَثَ رَجُلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ فَإِنْ كَانَ حَسَنَ الِاسْمِ رُئِيَ الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ وَإِنْ كَانَ قَبِيحًا رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدشگونی نہیں لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بستی میں آنے کا ارادہ فرماتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو آپ کے چہرے پر مسرت نظر آتی اور اگر اس کا نام اچھا نہ ہوتا تو اس کی کراہت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے نظر آتی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی آدمی کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر مسرت دکھائی دیتی اور اگر اس کا نام اچھا نہ ہوتا تو اس کی کراہت بھی آپ کے چہرے پر نظر آتی۔

وضاحت:
فوائد: … برے شگون سے آدمی طبعی طور پر متاثر تو ہو سکتاہے، لیکن شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عملی طور پر اس سے متاثر نہ ہو اور ارادے کے مطابق اقدام کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7787
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 3920 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22946 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23334»