الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ إِنْ يَكُ مِنَ السُّومِ شَيْءٌ حَقٌّ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ باب: اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
حدیث نمبر: 7776
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنْ يَكُ مِنَ الشُّؤْمِ شَيْءٌ حَقٌّ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بدشگونی کسی چیز میں ثابت ہوتی تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتی۔
وضاحت:
فوائد: … علامہ البانی رحمتہ اللہ علیہ قمطراز ہیں: اس حدیث کا مفہوم یہ ہوا کہ کسی چیز میں نحوست، بے برکتی اور بد شگونی نہیں ہوتی، کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کسی چیز میں یہ نحوست ہوتی تو ان تین چیزوں میں ضرور ہوتی، لیکن وہ تو سرے سے کسی چیز میں نہیں پائی جاتی ہے۔ بعض روایات کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ تین چیزوں میں نحوست ہے یا بے برکتی تو صرف تین چیزوں میں ہے۔ در اصل یہ بعض راویوں کا اختصار او رتصرف ہے۔ (صحیحہ: ۴۴۲)