الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشَائُمِ وَهُوَ الْمُعَبَرُ عَنْهُ بِالْطِيرَةِ باب: نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 7773
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَبَرِحَ ظَبْيٌ فَمَالَ فِي شِقِّهِ فَاحْتَضَنْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَطَيَّرْتَ قَالَ إِنَّمَا الطِّيَرَةُ مَا أَمْضَاكَ أَوْ رَدَّكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دن باہر نکلا تو اچانک ایک ہرن نمودار ہوا اور وہ بائیں جانب مائل ہوا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چمٹ کرکہنے لگا: اے اللہ کے رسول!آپ نے براشگون لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی وہ ہے، جو کام کرنے پر آمادہ کرے یا واپس لوٹا دے۔
وضاحت:
فوائد: … جب کوئی چیز بائیں سے دائیں طرف کو جاتی تو عرب اس سے نیک شگون لیتے تھے، لیکن اگر کوئی چیز دائیں سے بائیں سمت کو چلی جاتی تو وہ اس سے برا شگون لیتے تھے۔