الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشَائُمِ وَهُوَ الْمُعَبَرُ عَنْهُ بِالْطِيرَةِ باب: نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 7770
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنَّا نَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَتَطَيَّرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ شَيْءٌ تَجِدُهُ فِي نَفْسِكَ فَلَا يَصُدَّنَّكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ قَالَ فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان چیزوں کے متعلق بتائیں جو ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے، مثلا ہم بد شگونی لیا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کو تم دل میں محسوس کرو گے، لیکن یہ تمہارے لئے رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ میں نے کہا: ایک چیز یہ بھی تھی کہ ہم کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاہنوں کے پاس نہ جایا کرو۔