الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشَائُمِ وَهُوَ الْمُعَبَرُ عَنْهُ بِالْطِيرَةِ باب: نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 7769
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الطِّيَرَةِ وَالْعَدْوَى شَيْئًا قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُهُ يَقُولُ كُلُّ عَبْدٍ طَائِرُهُ فِي عُنُقِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدشگونی اور بیماری کے متعدی ہونے کے بارے میں کچھ فرمایا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ہر آدمی کا شگون اس کی گردن میں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا ایک سیاق یہ ہے: