الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّشَائُمِ وَهُوَ الْمُعَبَرُ عَنْهُ بِالْطِيرَةِ باب: نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 7768
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ فَقَدْ أَشْرَكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ قَالَ أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو بدشگونی نے کسی کام سے روک دیا، اس نے شرک کیا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہنا اس کا کفارہ ہے: اے اللہ! نہیں ہے کوئی بھلائی ما سوائے تیری بھلائی کے اور نہیں ہے کوئی شگون، ما سوائے تیرے شگون کے۔