الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا جَاءَ فِي ثُبُوتِهَا باب: متعدی بیماری کے ثبوت کا بیان
حدیث نمبر: 7765
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مَجْذُومٌ مِنْ ثَقِيفٍ لِيُبَايِعَهُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ائْتِهِ فَأَخْبِرْهُ أَنِّي قَدْ بَايَعْتُهُ فَلْيَرْجِعْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بنو ثقیف میں سے ایک کوڑھ زدہ آدمی آیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک جذام زدہ آدمی آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہے، آپ نے فرمایا: تم اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ میں نے اس کی بیعت قبول کرلی ہے، وہ وہیں سے واپس چلا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ جب لوگ اس سے گھن محسوس کریں گے تو اس کو خواہ مخواہ تکلیف ہو گی، اس لیے اس کو راستے سے ہی واپس کر دیا۔