الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
الْعَدْوَى وَالطَّيَرَةُ وَالْفَأَلُ وَالطَّاعُونُ وَمَوْتُ الْفَحْأَة¤ بابُ مَا جَاءَ فِي نَفِي الْعَدْوَى باب: بیماری کا متعدی ہونا، بدشگونی لینا، اچھی فال لینا، طاعون اور اچانک موت¤بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کا بیان
حدیث نمبر: 7760
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا طِيَرَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرْبَاءَ فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ فَتَجْرَبُ قَالَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ بدشگونی ہے، نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ صفر کی کوئی حقیقت ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم ایک خارش زدہ بکری کو دوسری بکریوں میں ڈال دیتے ہیں تو وہ دوسری بھی خارش زدہ ہوجاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ پہلی بکری کو بیماری کہاں سے متعدی ہو کر لگی ہے۔