الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
الْفَصْلُ الثَّانِي فِي أَنَّ نَوْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْقُضُ وُضُوءَهُ وَلَوْ مُضْطَجِعًا باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
حدیث نمبر: 776
عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ وَأَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح سو جاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خرّاٹوں کی آواز آنے لگتی، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ عکرمہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تو حفاظت کی گئی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ناقضِ وضو نہیں تھی، کیونکہ نیند کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل بیدار رہتا تھا۔