حدیث نمبر: 7759
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ فَذَكَرَ سِمَاكٌ أَنَّ الصَّفَرَ دَابَّةٌ تَكُونُ فِي بَطْنِ الْإِنْسَانِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكُونُ فِي الْإِبِلِ الْجَرِبَةُ فِي الْمِائَةِ فَتُجْرِبُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ بدشگونی ہے، نہ صفر ہے اور نہ الو کی کوئی حقیقت ہے۔ سماک بیان کرتے ہیں کہ صفر سے مراد ایک کیڑا ہے جو انسانی پیٹ میں پیدا ہوتا ہے، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! سو اونٹوں میں اگر ایک اونٹ کو خارش لگتی ہے، پھر اس کی وجہ سے سب خارش زدہ ہو جاتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا پہلے یہ بتاؤ کہ پہلے کو بیماری کس نے لگائی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ بات بڑی معقول ہے کہ اگر بیماری کی بنیاد اس کے متعدی ہونے پر ہے تو پہلے جاندار کو بیماری کہاں سے لگ جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7759
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3539، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2425»