الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
الْعَدْوَى وَالطَّيَرَةُ وَالْفَأَلُ وَالطَّاعُونُ وَمَوْتُ الْفَحْأَة¤ بابُ مَا جَاءَ فِي نَفِي الْعَدْوَى باب: بیماری کا متعدی ہونا، بدشگونی لینا، اچھی فال لینا، طاعون اور اچانک موت¤بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کا بیان
حدیث نمبر: 7757
حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ لَا صَفَرَ فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ الصَّفَرُ الْبَطْنُ قِيلَ لِجَابِرٍ كَيْفَ هَذَا الْقَوْلُ فَقَالَ دَوَابُّ الْبَطْنِ قَالَ وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ مِنْ قِبَلِهِ هَذَا الْغُولُ الشَّيْطَانَةُ الَّتِي يَقُولُونَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہے، نہ کوئی صفر ہے اور نہ غول۔ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ صفر سے مراد پیٹ ہے، جب ان سے کہا گیا کہ اس قول سے کیا مراد ہے، تو انھوں نے کہا: پیٹ کے کیڑے ہیں، پھر انھوں نے غول کی تعریف نہیں کی، البتہ ابو زبیر نے اپنی طرف سے کہا کہ غول سے مراد وہ چیز ہے، جس کو لوگ چڑیل یا جن کہتے ہیں۔