الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
الْعَدْوَى وَالطَّيَرَةُ وَالْفَأَلُ وَالطَّاعُونُ وَمَوْتُ الْفَحْأَة¤ بابُ مَا جَاءَ فِي نَفِي الْعَدْوَى باب: بیماری کا متعدی ہونا، بدشگونی لینا، اچھی فال لینا، طاعون اور اچانک موت¤بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا ثَلَاثًا فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ النُّقْبَةُ مِنَ الْجَرَبِ تَكُونُ بِمِشْفَرِ الْبَعِيرِ أَوْ بِذَنَبِهِ فِي الْإِبِلِ الْعَظِيمَةِ فَتَجْرَبُ كُلُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَجْرَبَ الْأَوَّلَ لَا عَدْوَى وَلَا هَامَّةَ وَلَا صَفَرَ خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ فَكَتَبَ حَيَاتَهَا وَمُصِيبَاتِهَا وَرِزْقَهَا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: کوئی بیماری دوسرے تک متعدی نہیں ہوتی۔ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو اونٹ کے ہونٹ یا دم پر خارش کا پہلا سوراخ نمودار ہوتا ہے، پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے کا پورا بڑا اونٹ خارش زدہ ہو جاتا ہے (اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیماری متعدی ہے)؟ یہ سن کر آپ کچھ دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا: سب سے پہلے اونٹ کو کس نے بیماری لگائی تھی، نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ کوئی صفر کی حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی، موت اور مصیبت اور رزق کو لکھ دیا ہے۔