الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ باب: نظر لگنے سے دم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7753
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ قَالَ نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقَ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بیٹے نظر زدہ ہوجاتے ہیں، کیا میں انہیں دم کرلیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی چیز تقدیر پر غالب آ سکتی ہوتی تو وہ نظر ہوتی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ نظر واقعی اثر کر سکتی ہے۔