الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ باب: نظر لگنے سے دم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7752
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَ كُنْتُ أَرْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَيْنِ فَأَصْنَعُ يَدِي عَلَى صَدْرِهِ وَأَقُولُ امْسَحِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نظر کا دم کیا کرتی تھی، میں اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینۂ مبارک پر رکھتی اور یہ دعا پڑھتی: اِمْسَحِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ! بِیَدِکَ الشِّفَاءُ لَا کَاشِفَ لَہٗ اِلَّا اَنْتَ۔ (اے لوگوں کے رب! یہ تکلیف دور کردے، شفاء تیرے ہاتھ ہی میں ہے، تیرے سوا کوئی شفاء دینے والا نہیں۔)