الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الرُّقى وَالتَّمَائِمِ وَنَحْوِهَا باب: ناجائز دم اور تمیمہ کا بیان
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكْتَ هَذَا قَالَ إِنَّ عَلَيْهِ تَمِيمَةً فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا فَبَايَعَهُ وَقَالَ مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک گروہ آیا، آپ نے ان میں سے نو آدمیوں سے بیعت لے لی اور ایک سے ہاتھ روک لیا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نوآدمیوں سے بیعت لے لی ہے اور اس ایک کو چھوڑ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے تمیمہ لٹکایا ہوا ہے۔ پس اس بندے نے اپنا ہاتھ داخل کیا اور اس تعویذ کو کاٹ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بیعت ے لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بھی تمیمہ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔