حدیث نمبر: 7735
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا فَكُنْتُ فِيهِمْ فَأَتَيْنَا عَلَى قَرْيَةٍ فَاسْتَطْعَمْنَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُطْعِمُونَا شَيْئًا فَجَاءَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْقَرْيَةِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ فِيكُمْ رَجُلٌ يَرْقِي فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ قُلْتُ وَمَا ذَاكَ قَالَ مَلِكُ الْقَرْيَةِ يَمُوتُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَرَدَّدْتُهَا عَلَيْهِ مِرَارًا فَعُوفِيَ فَبَعَثَ إِلَيْنَا بِطَعَامٍ وَبِغَنَمٍ تُسَاقُ فَقَالَ أَصْحَابِي لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا بِشَيْءٍ لَا نَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسُقْنَا الْغَنَمَ حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْنَاهُ فَقَالَ كُلْ وَأَطْعِمْنَا مَعَكَ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ قَالَ قُلْتُ أُلْقِيَ فِي رَوْعِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا، سیدنا ابو سعید کہتے ہیں: میں بھی ان میں شامل تھا، ہم ایک بستی میں آئے، ہم نے وہاں کے رہنے والوں سے کھانا طلب کیا، انہوں نے ہمیں کھانا کھلانے سے انکار کردیا، ہمارے پاس بستی والوں میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے گروہ عربٖ! تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جو دم کرلیتا ہو؟ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیسا دم کرنا ہے؟ اس نے کہا: اس بستی کا رئیس موت کی کشمکش میں ہے، پس ہم اس کے ساتھ گئے، میں نے اسے سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، میں نے کئی مرتبہ اسے دہرا کر پڑھا، پس اس کو عافیت ہو گئی، اس نے ہمارے لئے کھانا اور بکریاں بھیجیں، جو ہانک کر ہمارے پاس لائی گئیں، میرے ساتھیوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں ہمیں کوئی حکم نہیں دیا، ہم اس میں سے کچھ نہیں لیں گے، یہاں تک کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوں، ہم نے بکریاں ہانکیں، حتی کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے، جب ہم نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھالو اور ہمیں بھی اپنے ساتھ کھلاؤ، تمہیں کس طرح معلوم تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے کہا: بس میرے دل میں یہ بات ڈال دی گئی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ دم کرنے کا ذکر ہے، دیگر احادیث میں دوسری آیات اور احادیث کا ذکر موجود ہے، جیسے سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس وغیرہ، قرآن مجید سارے کا سارا اللہ تعالی کا کلام ہے اور انتہائی بابرکت ہے، البتہ بعض آیات اللہ تعالی کی زیادہ صفات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے زیادہ اثر کر سکتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7735
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11492»