الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
باب الرقية بِالقُرآن باب: قرآن مجید کے ذریعے دم کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ (وَفِي رِوَايَةٍ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ) فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ فَقَالُوا هَلْ فِيكُمْ دَوَاءٌ أَوْ رَاقٍ فَقَالُوا إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَا نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنْ شَاءٍ قَالَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفُلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْهُمْ بِالشَّاءِ فَقَالُوا لَا نَأْخُذُهَا حَتَّى نَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَضَحِكَ وَقَالَ مَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي فِيهَا بِسَهْمٍ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے کچھ لوگ عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے اور ان سے مہمانی کا مطالبہ کیا، اس قبیلہ والوں نے مہمانی سے انکار کردیا، اسی دوران ان کے سردار کو کسی زہریلی چیزنے ڈس لیا، انہوں نے ان صحابہ کرام سے کہا: کیا تم میں سے کوئی دم کرسکتا ہے یا اس کا علاج کرسکتا ہے؟ انہوں نے کہا: تم نے ہماری مہمانی کرنے سے انکار کردیا ہے، اس لیے ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے، جب تک تم اس کی مزدوری نہ دو گے،پس انہوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ دینا مقرر کر دیا، دم کرنے والے نے سورۂ فاتحہ پڑھنی شروع کی اور تھوک منہ میں جمع کی اور تھوک کی پھوہار سے دم کیا، وہ آدمی صحت یاب ہوگیا، وہ بکریاں لائے، انہوں نے کہا: یہ بکریاں ہم نہیں لیں گے، یہاں تک کہ ہم ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کرلیں، پس جب انہوں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور دم کرنے والے سے فرمایا: تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس سورت سے دم کیا جاتا ہے، یہ بکریاں لے لو اور بیچ میں میرا حصہ بھی مقرر کردو۔