الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ الْأَلْفَاظِ الْوَارِدَةِ فِي الرُّقْى باب: دم کے الفاظ کا بیان
حدیث نمبر: 7728
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ كَانَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ شَيْئًا وَنَفَثَ فَلَمَّا كَانَ فِي إِمْرَةِ عُثْمَانَ قُلْتُ لِأُمِّي مَنْ كَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ قَالَتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے میری ماں وادی ٔ بطحاء میں موجود ایک آدمی کے پاس لے گئی، یہ مکہ کی ایک وادی ہے، اس آدمی نے کچھ پڑھا اور پھوہار سی مار کر دم کیا، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت تھا تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ وہ آدمی کون تھا (جس نے مجھے دم کیا تھا)؟ انہوں نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔