الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ الْأَلْفَاظِ الْوَارِدَةِ فِي الرُّقْى باب: دم کے الفاظ کا بیان
حدیث نمبر: 7727
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ انْصَبَّتْ عَلَى يَدِي مِنْ قِدْرٍ فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَكَانٍ قَالَ فَقَالَ كَلَامًا فِيهِ أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَأَحْسِبُهُ قَالَ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي قَالَ وَكَانَ يَتْفُلُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا محمد بن حاطب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے بازو پر ہنڈیا میں سے کوئی چیز گر گئی، میری ماں مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھ کر دم کیا: أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسْ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی (اس تکلیف کو دور کردے اے لوگوں کے رب! شفاء دے دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے۔) ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلے ہوئے ہاتھ پر تھوک کی پھوہار سی ڈالتے تھے۔