حدیث نمبر: 7726
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ فَتَنَاوَلْتَ الْقِدْرَ فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ فَتَفَلَ فِي فِيكَ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ وَدَعَا لَكَ وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدَيْكَ وَيَقُولُ أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا فَقَالَتْ فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرَأَتْ يَدُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا محمد بن حاطب جمحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ماں سیدہ ام جمیل بنت مجلل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں تجھے حبشہ کی سرزمین میں لے گئی، واپس آرہی تھی، جب مدینہ کا سفر ایک دورات کا باقی رہ گیا تو میں نے تیرے لئے کھانا پکایا، ایندھن ختم ہوا تو میں اس کی تلاش میں نکلی، اُدھر تو نے ہنڈیا پکڑی جو تیرے بازو پر الٹ کر گر گئی اور بازہ جل گیا، میں تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لائی اور میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! یہ محمد بن حاطب ہے، اس کا بازو زخمی ہوگیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرے منہ میں لعاب ڈالا اور تیرے سر پر ہاتھ پھیرا اور تیرے لئے دعا کی اور تیرے ہاتھوں پر بھی تھوک کی پھوہار ڈالی اور فرمایا: أَذْہِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَائُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (تکلیف دور کردے اے لوگوں کے رب! اور شفاء دے تو ہی شافی ہے، نہیں ہے شفا، مگر وہ شفاء جو تیری طرف سے ہو، ایسی شفاء عطاء کر جو بیماری نہ چھوڑے۔) میری ماں کہتی ہیں: میں ابھی آپ کے پاس سے تجھے لے کر کھڑی نہیں ہوئی تھی کہ تیرا ہاتھ درست ہوچکا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7726
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «مرفوعه صحيح، وھذا اسناد ضعيف، عبد الرحمن بن عثمان بن ابراهيم ضعيف الحديث، أخرجه ابن حبان: 2977، والحاكم: 4/ 62، والطيالسي: 1194 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15532»