الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ الْأَلْفَاظِ الْوَارِدَةِ فِي الرُّقْى باب: دم کے الفاظ کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ ثَابِتٍ فَقَالَ لَهُ إِنِّي اشْتَكَيْتُ فَقَالَ أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ بَلَى قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: ہم سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں بیمار ہوں، جواباً سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا دم نہ کروں؟ انہوں نے کہا: جی ضرور کریں، انھوں نے کہا: تو پھر یہ دعا پڑھو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْہِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِیَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (اے اللہ! جو لوگوں کا رب ہے! اے تکلیف دور کرنےوالے! شفاء دے دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، نہیں کوئی شفاء دینے والا مگر تو ہی، شفاء دے ایسی شفاء جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے۔)