الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ الْأَلْفَاظِ الْوَارِدَةِ فِي الرُّقْى باب: دم کے الفاظ کا بیان
عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ابْنِ أَخِي مَيْمُونَةَ الْهِلَالِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ مَيْمُونَةَ قَالَتْ لَهُ يَا ابْنَ أَخِي أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ۔ عبدالرحمن بن سائب، جو کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے بھتیجے! کیا میں تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دم کروں؟انھوں نے کہا: جی ضرور کریں، سیدہ نے اس طرح دم کیا: بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیکَ وَاللّٰہُ یَشْفِیکَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ فِیکَ أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِیَ إِلَّا أَنْتَ۔ (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ تجھے دم کرتی ہیں، ہر اس بیماری سے، جو تیرے اندر ہے، اے لوگوں کے ربّ! تو بیماری کو دور کر دے اور تو شفا دے، تو ہی شافی ہے، بس کوئی شافی نہیں ہے، مگر تو ہی۔)