حدیث نمبر: 771
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنَامُونَ وَلَا يَتَوَضَّأُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام سو جاتے تھے اور پھر نیا وضو نہیں کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … مسند بزار (۲ /۳۳۴) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانُوْا یَضَعُوْنَ جُنُوْبَھُمْ، فَمِنْھُمْ مَنْ یَتَوَضَّأُ وَمِنْھُمْ مَنْ لَا یَتَوَضَّأُ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اپنے پہلوؤں پر سوجاتے تھے، پھر (نماز ادا کرتے وقت) کوئی وضو کرتا تھا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ بیٹھ کر اور لیٹ کر سونے میں اس اعتبار سے فرق کرنا درست نہیں ہے کہ بیٹھنے والے کا وضو برقرار رہتا ہے اور لیٹ جانے والے کا ٹوٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 771
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 376 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13983»