الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
الرُّقَى وَالسَّمَائِمُ وَمَا يَجُوزُ مِنْهَا وَمَا لَا يَجُوزُ باب: دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤جائز صورتوں کا بیان
حدیث نمبر: 7709
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيَةً كُنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ اطْرَحْ مِنْهَا كَذَا وَكَذَا وَارْقِ بِمَا بَقِيَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ وَأَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمیر مولیٰ آبی اللحم کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک دم پیش کیا، جو میں جاہلیت میں دم کیا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے فلاں فلاں حصے اور جملے نکال دو اور پھر جو کلام بچ جائے، اس کے ذریعے دم کیا کرو۔ محمد بن زید کہتے ہیں: میں نے ان کو اس حال میں پایا کہ وہ اس دم کے ذریعے پاگل لوگوں کو دم کیا کرتے تھے۔