حدیث نمبر: 7708
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَرْنَا بِسَيْلٍ فَدَخَلْتُ فَاغْتَسَلْتُ مِنْهُ فَخَرَجْتُ مَحْمُومًا فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا ثَابِتٍ يَتَعَوَّذُ قُلْتُ يَا سَيِّدِي وَالرُّقَى صَالِحَةٌ قَالَ لَا رُقْيَةَ إِلَّا فِي نَفْسٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ لَدْغَةٍ قَالَ عَفَّانُ النَّظْرَةُ وَاللَّدْغَةُ وَالْحُمَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک پانی کے تالاب کے نزدیک سے گزرے، میں اس میں داخل ہوا اور اس پانی سے غسل کیا، جب میں باہر نکلا تو بخار زدہ تھا ، جب اس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ثابت سہیل بن حنیف سے کہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے۔ میں نے کہا: اے میرے سردار! کیا دم کرنا درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دم صرف اس وقت کیا جائے جب نظر لگ جائے یا زہریلی چیز ڈس جائے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مقصود یہ نہیں ہے کہ دم ان تین صورتوں کے ساتھ خاص ہے، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان بیماریوں کے لیے دم کی اہمیت زیادہ ہے، کیونکہ ان کی تکلیف بہت زیادہ ہوتی ہے، ان کے علاوہ دوسری بیماریوں سے دم کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7708
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 3888، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16074»