حدیث نمبر: 7707
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُعِيَ لِامْرَأَةٍ بِالْمَدِينَةِ لَدَغَتْهَا حَيَّةٌ لِيَرْقِيَهَا فَأَبَى فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَاهُ فَقَالَ عَمْرٌو يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَزْجُرُ عَنِ الرُّقَى فَقَالَ اقْرَأْهَا عَلَيَّ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا بَأْسَ إِنَّمَا هِيَ مَوَاثِيقُ فَارْقِ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں ایک عورت کو دم کرنے کے لئے بلایا گیا، اس کو سانپ نے ڈسا تھا، لیکن انہوں نے دم کرنے سے انکار کردیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بلایا اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے دم سے منع جو کررکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس دم کے الفاظ میرے سامنے پڑھو۔ پس جب انھوں نے وہ الفاظ پڑھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ پختہ چیزیں ہیں، ان کے ساتھ دم کیا کرو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7707
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطحاوي: 4/ 328، وأخرجه مسلم: 2199 بلفظ: ارخص النبي صلي الله عليه وآله وسلم في رقية الحية لبني عمرو ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15306»