الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
الرُّقَى وَالسَّمَائِمُ وَمَا يَجُوزُ مِنْهَا وَمَا لَا يَجُوزُ باب: دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤جائز صورتوں کا بیان
حدیث نمبر: 7706
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْقِيهِ فَقَالَ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی کو بچھو نے کاٹ لیا، جبکہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسے دم کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے بھائی کو جس قسم کا نفع پہنچا سکتا ہے، وہ پہنچائے۔