حدیث نمبر: 7705
وَعَنْهُ أَيْضًا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا شَأْنُ أَجْسَامِ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً أَتُصِيبُهُمْ حَاجَةٌ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ تُسْرِعُ إِلَيْهِمُ الْعَيْنُ أَفَنَرْقِيهِمْ قَالَ وَبِمَاذَا فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ ارْقِيهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا : میرے بھائی (سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ ) کی اولاد کے جسموں کو کیا ہو گیا ہے، یہ کمزور ہیں، کیا یہ فاقہ میں ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، ان کو نظر بد بہت جلد لگ جاتی ہے تو کیا ہم ان کو دم کر لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون سے کلام کے ساتھ؟ جب انھوں نے اپنا کلام پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں دم کرلیا کرو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7705
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2198، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14627»