الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا يَنْفَعُ الْمَرِيضَ مِنَ الْعَذَاءِ وَمَا يُضِرُّهُ باب: صحت کے لیے مفید اور مضر غذائوں کا بیان
حدیث نمبر: 7701
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالْبَغِيضِ النَّافِعِ التَّلْبِينِ يَعْنِي الْحَسْوَ قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ تَزَلِ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ حَتَّى يَلْقَى أَحَدَ طَرَفَيْهِ يَعْنِي يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کو لازم پکڑو، جسے تمہاری طبیعت پسند نہیں کرتی، لیکن وہ نفع بخش بڑی ہے، یہ چیز مالیدہ ہے۔ اس کو گھونٹ گھونٹ کرکے پینا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں میں سے اگر کوئی بیمار ہوتا ہنڈیا آگ پر ہی رہتی تھی، اسے مالیدہ پلاتے تھے یہاں تک کہ معاملہ کنارے لگ جاتا یعنی یا تو مریض فوت ہوجاتا یا پھر صحت یاب ہو جاتا۔