الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
بَابُ مَا يَنْفَعُ الْمَرِيضَ مِنَ الْعَذَاءِ وَمَا يُضِرُّهُ باب: صحت کے لیے مفید اور مضر غذائوں کا بیان
حدیث نمبر: 7700
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قِيلَ لَهُ إِنَّ فُلَانًا وَجِعٌ لَا يَطْعَمُ الطَّعَامَ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينَةِ فَحَسُّوهُ إِيَّاهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنَ الْوَسَخِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب کہا جاتا کہ فلاں کو تکلیف ہے، وہ کھانا بھی نہیں کھا رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: آٹے کا مالیدہ بنا کر اسے گھونٹ گھونٹ کر کے پلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح صاف کر دیتا ہے، جس طرح تم اپنے چہرے سے میل کچیل صاف کرتی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا زیتون کا تیل، آٹا اور پانی ملا کر ایک شربت تیار کیا جاتا تھا جو مریض کے لئے نہایت ہی مفید ہے اسے حساء کہتے ہیں اور ایک مریض کے لئے یہ طریقہ علاج تھا، جسے آٹے اور شہد سے بنایا جاتا تھا اسے تلبنیہ کہتے تھے یہ بھی نہایت مؤثر علاج تھا کیونکہ ان میں ستو کا آٹا ڈالتے تھے اور پانی میں ڈال کر اسے جوش دلاتے تھے یہ جسم کی فضولیات کی حدت میں کمی کرتا ہے پیشاب آور ہے پیاس ختم کرتا ہے اور گرمی کی شدت کم کرتا ہے اس پر پانچ گنا پانی ڈالا جائے اور اسے جوش دیا جائے کہ اس کا ۵/۲ حصہ باقی رہ جائے۔ یہ دوا مریض کے لئے بہت ہلکی ہے اور بیماریوں کے علاج میں مؤثر ہے۔