حدیث نمبر: 770
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، قَالَ عَفَّانُ: أَوْ أُخِّرَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً فَقَامَ مَعَهُ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ، أَوْ قَالَ: بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَذْكُرْ وَضُوءًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز عشاء کے لیے اقامت کہہ دی گئی یا ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا گیا، پس ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کوئی کام ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ سرگوشی کرنے لگے، یہاں تک کہ لوگ سونے لگ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور وضو کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 770
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرج نحوه البخاري: 7239، ومسلم: 642 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13868»