حدیث نمبر: 7695
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَحْرَقَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ تَجْعَلُهُ عَلَى جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِوَجْهِهِ قَالَ وَأُتِيَ بِتُرْسٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَتْ عَنْهُ الدَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو احد کے دن دیکھا کہ انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا، اسے جلا کر اس کی راکھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے مبارک کے زخم بھرے اور ڈھال میں پانی لایا گیا تھا، اس سے انھوں نے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خون صاف کیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … راکھ سے زخم جلد خشک ہو جاتا ہے اور خون رک جاتا ہے، اب بھی دیہاتوں میں جسم پر لگنے والے کٹ پر راکھ لگا دی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7695
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23217»