حدیث نمبر: 7691
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ بِصَبِيٍّ يَسِيلُ مَنْخِرَاهُ دَمًا قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ وَعِنْدَهَا صَبِيٌّ يَبْعَثُ مَنْخِرَاهُ دَمًا قَالَ فَقَالَ مَا لِهَذَا قَالَ فَقَالُوا بِهِ الْعُذْرَةُ قَالَ فَقَالَ عَلَامَ تُعَذِّبْنَ أَوْلَادَكُنَّ إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَأْخُذَ قُسْطًا هِنْدِيًّا فَتَحُكَّهُ بِمَاءٍ سَبْعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تُوجِرَهُ إِيَّاهُ قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ثُمَّ تُسْعِطَهُ إِيَّاهُ فَفَعَلُوا فَبَرَأَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا (اور ایک راوی کی روایت کے مطابق) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، ان کے پاس ایک بچہ تھا، جس کے نتھنوں سے خون بہہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اسے کیا ہو گیا ہے؟ بتایا گیا کہ اس کے حلق میں تکلیف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کو تکلیف میں کیوں مبتلا کرتے ہوئے؟ اتنا ہی کافی ہے کہ عود ہندی لو اور اسے پانی میں سات مرتبہ تر کر لو اور اسے حلق میں ڈال دو، ابن ابی عتبہ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے ناک میں ڈالو۔ پس انہوں نے ایسا ہی کیا اور وہ بچہ صحت یاب ہوگیا۔

وضاحت:
فوائد: … اسلامی طب اور جدید طب میں تجویز بالا دواؤں کے فوائد اور استعمال کی تفصیلات پر مزید مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7691
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 9، والبزار: 3024، والحاكم: 4/ 205، وابويعلي: 1912 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14438»