الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي لَوْمِ الْقَاعِدِ باب: بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
حدیث نمبر: 769
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ عَفَّانُ: قَالَ حَمَّادٌ: أَنَا أَيُّوبُ وَقَيْسٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا ثُمَّ نَامُوا ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا، قَالَ قَيْسٌ: فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّأُواترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا، یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے۔ بالآخر سیدنا عمر بن خطاب ؓآئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! نماز پڑھائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، راوی نے اس قسم کی کوئی بات ذکر نہیں کی کہ انھوں نے وضو کیا تھا۔