حدیث نمبر: 7689
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْعَتُ الزَّيْتَ وَالْوَرْسَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ قَالَ قَتَادَةُ يَلُدُّهُ مِنْ جَانِبِهِ الَّذِي يَشْتَكِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمونیا بیماری کے لیے زیتون کے تیل اور ورس بوٹی تجویز کیا کرتے تھے۔ امام قتادہ نے کہا: منہ کی اس جانب سے ان کے قطرے ڈالے جائیں جس جانب بیماری کی شکایت ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ذات جنب دو قسم کی بیماری ہوتی ہے ایک یہ ہے کہ پول میں انتڑیوں اور ہڈیوں کے اندر ورم پیدا ہوجاتا ہے اسے حقیقی ذات جنب کہتے ہیں دوسری ذات جنب بیماری یہ ہے کہ پہلو میں غلیظ ہوا پیدا ہوتی ہے جس سے سخت اذیت ہوتی ہے اور درد پیدا ہوتا ہے اس ذات جنب بیماری سے بخار، کھانسی، سانس کی تنگی، گوشت کے اندر تکلیف وغیرہ بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اس کا علاج زیر شرح حدیث میں بتایا گیا ہے کہ عود ہندی کو اچھی طرح کوٹ کر باریک کرلیا جائے اور زیتون کے گرم تیل میں ملا کر درد والی جگہ پر مل دی جائے یا مریض کو چٹا دی جائے تو بہت مفید ہے اور اس سے اعضاء کو قوت بھی حاصل ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7689
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19542»