حدیث نمبر: 7686
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي اسْتُطْلِقَ بَطْنُهُ قَالَ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا قَالَ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ لَهُ فِي الرَّابِعَةِ اسْقِهِ عَسَلًا قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ فَسَقَاهُ فَبَرَأَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّابِعَةِ صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میرے بھائی کو دست آرہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ اس نے اسے شہد پلایا اور آ کر کہا: میں نے اسے شہد پلایا، لیکن اس وجہ سے اسہال میں اضافہ ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ۔ پس وہ گیا، لیکن پھر اس نے آ کر کہا: جی میں نے اس کو شہد پلایا ہے، لیکن اسہال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اور شہد پلاؤ۔ وہ گیا اور سہ بار اس نے آ کر کہا: میں نے اس کو شہد پلایا ہے، لیکن اسہال میں اضافہ ہی ہوا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی بار اس سے فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ اس بار جب اس نے اس کو شہد پلایا تو وہ شفایاب ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھٹلا رہا ہے، (یعنی تیرے بھائی کا پیٹ شفا قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا)۔

وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: امام ابن قیم نے (زاد المعاد: ۳/ ۹۷۔۹۸) میں شہد کے بے شمار فوائد ذکر کرنے کے بعد کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس آدمی کے لیے یہ دوا تجویز کی تھی، اس کو بسیار خوری کی وجہ سے بد ہضمی ہو گئی تھی اور پھر دست شروع ہو گئے تھے، اسے شہد پینے کا حکم دیا گیا، تاکہ معدہ اور انتڑیوں سے زائد مواد خارج ہو جائے۔ جب معدہ میں لیس دار مکسچر ٹھہرتا ہے تو وہ اس کی اندرونی جہت کو ڈھانکنے والے ریشوں میں پھنس جاتا ہے، اس طرح معدہ میں فساد اور بگاڑ آ جاتا ہے اور چپچپاہٹ کی وجہ سے وہاں غذا نہیں ٹھہر پاتی۔ ایسی صورت میں سب سے بہترین دوا وہ ہوتی ہے جو مخلوط مواد کو معدہ سے خارج کر دے اور وہ شہد ہے، بالخصوص جب اس کو گرم پانی کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7686
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5684، ومسلم: 2217 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11163»