حدیث نمبر: 768
عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ (عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ كَانَ مِنْهُ، فَقَالَ: ((لَا يَنْفَتِلُ حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ شکایت کی ہے کہ وہ نماز کے اندر (وضو توڑ دینے والی) ایسی چیز پاتا ہے کہ اس کو یہ خیال آنے لگتا ہے کہ واقعی کچھ ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسی صورتحال میں وہ جب تک بو نہ پا لے یا آواز نہ سن لے، اس وقت تک نماز سے نہ پھرے۔

وضاحت:
فوائد: … طہارت کے معاملے میں وسوسہ اور شک و شبہ ان لوگوں پر غالب آ جاتے ہیں، جو مذکورہ بالا احادیث میں پیش کیے گئے احکام سے غافل ہو جاتے ہیں، ہر انسان جانتا ہے کہ ہوا کے خارج ہونے کا تعلق صرف اس سوراخ اور اس کے ارد گرد کی جگہ سے نہیں ہے، جہاں سے گیس خارج ہوتی ہے، بلکہ انسان کا وجود اور طبیعت پہلے سے ہی آگاہ ہو جاتے ہیں اور ان کو پورا شعور ہو جاتا ہے کہ کیا ہوا ہے اور کیا ہونے والا ہے، اس لیے اگر کوئی آدمی اپنے سرینوںکے درمیان کوئی حرکت یا کوئی پھونک محسوس کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ اس سے ہوا خارج ہو گئی ہے، اگر شیطان اس کو اس قسم کے شبہ میں ڈالنے کی کوشش کرے تو وہ اپنے نفس سے آواز آنے یا بد بو آنے کی شرط لگا لے، وگرنہ اپنے احساس کو شیطانی وسوسے کا نتیجہ سمجھ کر دفع کر دے۔ جن لوگوں کو غسل، استنجا، پیشاب کے قطروں اور وضو کے بارے میں وسوسوںکی بیماری پڑ جاتی ہے، ان سے گزارش ہے کہ وہ شریعت کے پابند رہیں اور درج بالا احادیث پر غور کر کے شیطان کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں۔ میں بندۂ ناچیز میں وہمی اور وسوسی لوگوں کا علاج کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے، اس لیے جب تک میرے زندہ ہونے کا امکان ہو، اس قسم کے لوگ رابطہ کر سکتے ہیں، بلکہ ہر آدمی کو یہ مہارت حاصل ہونی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الوضوء / حدیث: 768
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 137، 177، 2056، ومسلم: 361 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16564»