حدیث نمبر: 7672
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَتَنَازَعُونَ فِي الشَّجَرَةِ الَّتِي اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ أَحْسَبُهَا الْكَمْأَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے اور وہ اس درخت کے بارے میں بحث کررہے تھے کہ جس کے متعلق قرآن پاک میں آتا ہے کہ اسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ دیا گیا ہے اور اس کے لئے کوئی قرار نہیں ہے، بعض نے کہا: ہمارا خیال ہے اس درخت سے مراد کھمبی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھمبی تو مَنّ میں سے ہے، … ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال) / حدیث: 7672
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن دون قصة الشجرة، وھذا اسناد ضعيف لضعف شھر بن حوشب، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9446»