الفتح الربانی
كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)— طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا
الْعَوَةُ وَالْكَمْأَةُ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ وَمَنَافِعُهَا باب: عجوہ کھجور، کھمبی اور کلونجی اور ان کے فوائد کا بیان
حدیث نمبر: 7671
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ يَذْكُرُونَ الْكَمْأَةَ وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے پاس آئے جبکہ وہ کھمبی کا ذکر کر رہے تھے اور بعض کہہ رہے تھے کہ یہ تو زمین کی چیچک ہے، یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھمبی تو مَنّ میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا بخش ہے اور عجوہ کھجور جنت میں سے ہے، یہ زہر کے لئے شفاء ہے۔