الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي الشَّكِّ فِي الْحَدَثِ باب: بے وضگی کا شک پڑ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 767
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَأْخُذُ شَعْرَهُ مِنْ دُبُرِهِ فَيَمُدُّهَا فَيَرَى أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ، فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس کی دُبُر کے بَالَ پکڑ کر کھینچتا ہے، اس سے بندے کو یہ وہم ہو نے لگتا ہے کہ وہ ہوا خارج ہونے کی وجہ سے بے وضو ہو گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں کوئی آدمی وضو کے لیے اس وقت تک نہ جائے، جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ پا لے۔